24 اگست 2013 - 19:30
تیونس میں حکومت مخالف مظاہرے

تيونس ميں دسيوں ہزار لوگوں نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کيا ۔

ابنا: مظاہرين نے  ہفتے کے روز تيونس کي قومي اسمبلي کے سامنے اپنے اس اجتماع ميں حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کيا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا  کہ يہ مظاہرہ حکومت کے خلاف ايک  ہفتے تک وسيع مظاہروں  کے پروگرام کے تحت  پہلا مظاہرہ تھا ۔ تيونس ميں حکومت مخالفين نے اسے رخصتي کے ہفتے کا نام ديا ہے ۔پوليس نے ہاتھوں ميں قومي پرچم اٹھا کر قومي ترانہ پڑھنے والے مظاہرين کي تعداد دس ہزار بتائي ہے جبکہ حکومت مخالف ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرين کي تعداد ساٹھ ہزار تھي ۔ تيونس ميں حکومت کے خلاف مظاہروں کے نئے سلسلے کے دوران ہي اس ملک کے وزير اعظم علي العريض نے ملک کے چوبيس گورنروں ميں سے سات کو تبدل کرديا ہے ۔تيونس ميں وزير اعظم کے دفتر سے جاري ايک بيان ميں اس تبديلي کي اطلاع دي گئ ہے ليکن اس کي وجوہات کا کوئي ذکر نہيں کيا گيا ہے ۔ تيونس ميں حکومت مخالف جماعتوں کو اميد ہے کہ مخالفين ميں اتحاد کي صورت ميں وہ حکومت کو استعفي دينے پر مجبور کر ليں گے ۔ واضح رہے کہ مظاہرين موجودہ حکومت کي برطرفي کے ساتھ ہي غير جماعتي حکومت کي تشکيل کا بھي مطالبہ کر رہے ہيں ۔

.......

/169